Sunday, 27 November 2016

Trend Alert | Shearling Bombers

Throughout the years, the bomber jacket has made countless appearances on the runways, and this season, it returns with a bang. Included in high-end collections, such as V FilesAltuzarraKate Spade, and Lacoste, the classic piece is slated to be one of the hottest outwear trends of the winter. At the V Files show, an oversized, chunky bomber made its way down the runway and it fit right in as the designer experimented with fabric and gender fluidity throughout the entire collection. With outerwear being Altuzarra’s specialty, it should come as no surprise that shearling bombers were included in the recent line. Not your usual bomber, Altuzarra’s versions included bold patterns and color-blocking. Even Kate Spade, a designer known for ultra-feminine pieces, couldn’t resist including the jacket-of-the-season in her collection. She paired her leather bomber with cropped flares and a mariniere top, proving that the classic piece can add a bit of an edgy vibe to florals and other feminine patterns, creating a unique juxtaposition. The biggest changes in the classic piece were definitely seen at Lacoste, where shearling bombers came in the form of long, reversible overcoats with bisecting zippers at the waist.Ready to try this trend for yourself? The key to pulling it off is the fit. Oversized bombers are totally in, but they shouldn’t be so big that they’re falling off. If you want to go with a fitted version of the outerwear staple, make sure it’s snug but not too constricting. As far as styling, the bomber can be paired with everything from kick flares to midi dresses.

Sunday, 25 September 2016

بالوں کو گرنے سے کیسے روکا جائے؟ چند گھریلو ٹوٹکے

بالوں کا گرنا کس شخص کو پسند ہوسکتا ہے خاص طور پر مردوں کو، جن میں گنج پن کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کو بالوں کے گرنے کا سامنا ہے تو بہتر تو یہ ہے کہ کسی ڈاکٹر سے رجوع کرکے اس کی جڑ تلاش کریں۔ تاہم بالوں کی صحت مند نشوونما کے لیے یہ گھریلو ٹوٹکے بھی آپ کو مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ ٹوٹکے ڈان کی ایک معلومات رپورٹ سے اخذ شدہ ہیں-
 
ایلو ویرا
اگر تو آپ پریشان ہیں کہ کس طرح گرتے بالوں کو روکیں تو ایلو ویرا اس مسئلے سے نجات دلانے کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے، ایلو ویرا سر کی سطح کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام کرکے ہیئر سیلز کے لیے ایسا صحت مند ماحول تیار کرتا ہے کہ بالوں کی نشوونما بہتر ہوجاتی ہے۔ ایلو ویرا ایک جز سیبم کی صفائی بھی کرتا ہے جو بالوں کی جڑوں کو روک کر بالوں کو اگنے سے روکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایلو ویرا کے خالص جیل کی مالش اپنے سر پر کریں۔

پیاز کا عرق
طبی جریدے جرنل آف ڈرماٹولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق پیاز کا عرق بالوں کی نشوونما میں بہت زیادہ معاونت کرتا ہے، اس تحقیق کے دوران رضاکاروں کے سروں پر 6 ہفتے تک دن میں دو بار اس عرق کو ملا گیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ عرق ایسا قدرتی طریقہ علاج ہے جو بالوں کو گرنے سے روک کر ان کی نشوونما بہتر بناتا ہے۔ پیاز میں سلفر پایا جاتا ہے جو دوران خون کو بہتر ، کولیگن کی نشوونما میں تیزی اور جراثیم کش ہونے کے باعث سر کے انفیکشنز کی روک تھام کرتی ہے، اس کے استعمال کے لیے پیاز کے عرق کو سر پر لگا کر پندرہ منٹ کے لیے چھوڑ دیں، پھر بالوں کو شیمپو سے دھولیں۔

لہسن
لہسن آپ کے بالوں کے گرنے کے مسئلے کو ختم کرسکتا ہے جس کی وجہ اس میں شامل ایک جز الیسین کی بھرپور مقدار ہے، یہ سلفر کمپاﺅنڈ پیاز میں بھی پایا جاتا ہے اور ایک طبی تحقیق کے مطابق بالوں کے گرنے کی روک تھام کے لیے موثر ہے۔ لہسن کو کاٹ لیں اور اس کی پوتھیوں کو سر پر ملیں۔ آپ تیل میں بھی لہسن کو شامل کرکے مساج کے ذریعے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

ناریل کا دودھ
اکثر شیمپو اور کنڈیشنرز کا مرکزی جز ناریل ہوتا ہے، جس کی وجہ اس کی نمی بحال کرنے کی صلاحیت ہے، بالوں کے گرنے کی ایک بڑی وجہ نمی ختم ہوکر خشکی بڑھ جانا ہے۔ دن میں ایک بار ناریل کے دودھ کی مالش کریں اور دس منٹ تک کے لیے چھوڑنا جلد اس مسئلے سے نجات دلا سکتا ہے۔

سیب کا سرکہ
اس سرکے کی تیزابیت سر کی سطح میں تبدیلیاں لاکر خشکی کو دور کرتی ہے۔ چوتھائی کپ سیب کے سرکے کو چوتھائی کپ پانی میں ملا کر کسی اسپرے بوتل میں ڈال لیں اور پھر اپنے سر پر اس کا چھڑکاﺅ کریں۔ اس کے بعد اپنے سر پر تولیہ لپیٹیں اور پندرہ منٹ سے ایک گھنٹے تک کے لیے بیٹھ جائیں اور پھر بالوں کو دھولیں۔ بہترین نتائج کے لیے ہفتے میں دو بار اس کو دہرائیں۔
Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.